واہمہ

تمھارا کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو تمھاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہوگی مجھے یقین ہے مجھے یقین ہے مگر قسم کھانے والے لڑکے تمھاری آنکھوں میں ایک تل ہے!

Read More »

پیش کش

اتنے اچھے موسم میں روٹھنا نہیں اچھا ہار جیت کی باتیں کل پہ ہم اٹھا رکھیں آج دوستی کر لیں !

Read More »

ہے ابھی لمس کا احساس مرے ہونٹوں پر

چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی بولتی ہے تو بدل جاتی ہے رنگت اس کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک وہ ملی تھی مجھ کو اس کی آواز میں موجود تھی حیرت اس کی ہاتھ چھو لوں تو لرز جاتی ہے پتے کی طرح وہی ناکردہ گناہی پہ ندامت اس کی کسی ٹھہری ہوئی ساعت کی طرح مہر ...

Read More »

جو شہر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو

جو شہر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو میں پیمبر تو نہیں میرا کہا کیسے ہو دل کے ہر ذرے پہ ہے نقش محبت اس کی نور آنکھوں کا ہے آنکھوں سے جدا کیسے ہو جس کو جانا ہی نہیں اس کو خدا کیوں مانیں اور جسے جان چکے ہیں وہ خدا کیسے ہو عمر ساری تو اندھیرے میں ...

Read More »

شکوہ

کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا ميں بھي کوئي گل ہوں کہ خاموش رہوں جرات آموز مري تاب سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ہم قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ...

Read More »

جواب شکوہ

کيوں زياں کار بنوں ، سود فراموش رہوں فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہم نوا ميں بھي کوئي گل ہوں کہ خاموش رہوں جرات آموز مري تاب سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے ، خاکم بدہن ، ہے مجھ کو ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيں ...

Read More »

یہ غازی، یہ تیرے پراسرار بندے

یہ غازی، یہ تیرے پراسرار بندے جنھیں تُو نے بخشا ہے ذوق خدائی حو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذتِ آشنائی شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

Read More »